Tags » Afghanistan » Page 2

Trump Awarded 'Bravery' Medal By Afghans For Pakistan Stance

A community gathering in Afghanistan’s Logar Province has awarded U.S. President Donald Trump a “bravery” medal, thanking him for his tough stance against Pakistan.Said Farhad Akbari, a community leader in the province, told RFE/RL’s Radio Free Afghanistan on January 14 that more than 300 people at an informal “jirga,” or council, of concerned citizens agreed to award the medal to the U.S. 367 more words

Meet Ari

I remember seeing my friend Ari sitting on a park bench under a small shade tree. It was a warm day in June. She had a… 540 more words

Refugees

دھمکیوں کے بعدجھانسا، ہوشیار باش

(تحریر :ابو رجا ءحیدر)
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کی گز شتہ سال جاری کردہ جنوبی ایشیاءسے متعلق آئندہ کی حکمت عملی اورپاکستان کو پے در پے دھمکیوں پر دھمکیوں سمیت فوجی امداد کی معطلی کے بعد دونوں ممالک کے مابین تعلقات سرد مہری کا شکار ہیں، پاکستان نے تو امریکہ کوکہہ دیا ہے ناقابل تلافی جانی و مالی نقصان اور امریکہ کی طرف سے ہر وقت بد اعتمادی سمیت ہمارے ازلی دشمن بھارت کےساتھ کھلم کھلا دوستی تو کجا اسے ہم پر مسلط کرنےکی پالیسی پر عمل پیرا ہونے کے باوجود ہم نے اپنی مادر وطن ہی نہیں عالمی امن کیلئے بلا امتیاز دہشتگردوں کےخلاف جنگ لڑی اور کامیابیاں حاصل کیں ، دہشتگردی کےخلاف ہما ر ی کوششوں کے واضح نتائج سامنے آ چکے ہیں، جس کی پوری دنیا سوائے امریکہ کے معترف ہے ، لیکن پھر بھی ہم سے ڈومورکا مطالبہ اور دھمکیاں ،افغانستان اور بھارت کی حکومتوں کو تھپکیاں ،تو پھر سوری ۔
پہلے تولو بعد میں بولو جیسی حقیقت کو نظر انداز کرنےوالے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ٹوئٹس اپنی جگہ لیکن امریکی محکمہ دفاع کو افغانستان میں جا ر ی جنگ میں شکست کی سبکی سے بچنے اور فتح کی راہ میں درپیش مشکلات کا حل پاکستان کی مدد کے بغیر ناممکن دیکھائی دے رہا ہے اسیلئے سال نو کے آغاز ہی سے کئی اعلیٰ سطحی امریکی وفد اسلام آباد کی مسلسل یاترہ کر چکے ہیں ۔15جنوری کو قائم مقام معاون امریکی وزیر خارجہ ایلس ویلز کا وفد کے ہمراہ دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھی ،ا س وفد کو پاکستانی حکام نے بریفنگ دی کہ دہشت گردی کےخلاف اب تک کتنی بھر پور کوششیں کی ہیں اور ا نکے کیا نتائج برآمد ہوئے ہیں،ملک میں سلامتی کی صورتحال واضح طور پر بہتر ہو چکی ہے، اس کے باوجود پاکستان خطے میں سلامتی و استحکا م کےلئے اپنی کاوشیں جاری رکھے گا اور دہشتگردی کےخلاف اندرون ملک اقدامات کے ٹھوس نتائج سے علاقائی امن و سلا متی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔سینٹ کام کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل بھی دونوں ملکوں کے عسکری تعلقات میں بہتری کےلئے پاس فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کرچکے ہیں۔ ایلس ویلز نے دہشت گردی کے انسداد کےلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور شدت پسندی کے خاتمے کےلئے انٹیلی جنس امور میں مزید تعاون کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
جس دن پاکستانی دفتر خارجہ امریکی قائم مقام معاون وزیر خارجہ کو دہشتگردی کےخلاف جنگ میں اپنی کامیابیوں سے متعلق بریفنگ دے رہا تھ اسی روزاقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ایک خصوصی وفد افغانستان کے دورے پرتھا ۔ وفد کے ارکان نے صدر اشرف غنی اور چیف ایگز یکٹو عبداللہ عبداللہ سے ملاقاتیں کیں اور ملک میں سلامتی کی صورتحال کا جائزہ لیا،علاقائی سطح پر ہونےوالی دہشت گردی اور آئندہ پارلیمانی انتخا بات کی تیاری جیسے معاملات بھی زیر بحث آئے۔اس موقع پر دارالحکومت کابل میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے ، کئی سرکاری دفاتر، سفارتخانے وغیرہ بند رکھے گئے ،تاہم اس کے باوجود صدر غنی نے حقائق سے چشم پوشی کرتے ہوئے امریکہ اور بھارت کی بولی بولی اور ہرزہ سرائی کی کہ اقوام متحدہ پڑوسی ملک پاکستان پر دباو¿ جاری رکھے ،کیونکہ پاکستان میں طالبان عسکریت پسندوں کو پناہ گاہیں میسر ہیں جہاں سے افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔
وزیر دفاع خرم دستگیر خان نے بھی اسی روز قومی اسمبلی میں پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا امریکہ اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے،ہم افغان جنگ میں قربانی کابکرا بنیں گے نہ ہی افغان جنگ پاکستان میں لڑیں گے، ٹرمپ انتظامیہ کو دھمکیوں کی بجائے مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے، پاک امریکہ تعلقات میں پیشرفت دھمکیوں اور امداد کی بندش سے نہیں بلکہ جامع اور خوشگوار ماحول میں بات چیت سے ممکن ہوگی،افغانستان میں امن جمہوری افغا نستان میں مضمر ہے،بھارت کا رویہ ناقابل بر داشت ہے،آئے روزپاکستانی فوجی اور عام شہریوں کوسیز فائر اور ورکنگ باﺅنڈری کی خلاف ورزی کر کے شہید کیا جا رہا ہے ، امریکہ پاکستان سے کہتا ہے بھارت خطرہ نہیں، ہمارے خطے میں امریکہ گزشتہ 16 برسوں سے افغانستان میں کھربوں ڈالر خرچ ، ہزاروں فوجی ہلاک و ہزاروں زخمی کرا چکا ہے پھر بھی سلطنتوں کے قبرستان میں کامیابی نہیں ملی ،جسکا الزام پاکستان پرتھونپاجا رہا ہے ،ہم کسی امداد یا مالی فائدے کےلئے اس جنگ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ ہماری سر زمین سے روزانہ 200 پروازیں کی گئیں‘ القاعدہ کےخلاف پاکستان نے سب سے زیادہ موثر کارروائیاں کیں، پاکستان نے 30 لاکھ سے زائد افغانوں کی میزبانی کی اور اب بھی کر رہا ہے، کیا کوئی اس کی قیمت لگا سکتا ہے۔ افغانستان کے 43.2 فیصد اضلاع افغان حکومت کے کنٹرول سے باہر ہیں، اس شرح میں مزید اضافہ ہوا ہے تاہم بدقسمتی سے اس کا اعتراف کرنے کی بجائے پاکستان پر الزام تراشی کا آسان راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہم نے افغانستان کی جنگ میں اپنا سب کچھ جھونک دیا لیکن پھر بھی ہمیں دھمکی آمیز بیانات سننے کو ملتے ہیں،جمعیت علماءاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا نائن الیون کے بعد خوف میں آ کر بنائی گئی پالیسی پاکستان کے مفاد میں نہیں تھی،امریکہ کیلئے کام کرنے کے باوجودہم قابل اعتبارنہیں، 1980ءسے ہم نے افغانستان میں سرمایہ کاری کی آج وہاں بھارت بیٹھا ہے، ہم نے ملک بھر کے علماءسے دہشتگردی اور خودکش حملوں کےخلاف فتوے جاری کرائے پھر بھی ہم پر شک کیا جارہا ہے، مدارس اور مذہبی جماعتوں کو فورتھ شیڈول میں رکھا جائےگا تو بات کیسے بنے گی۔ بدقسمتی سے خارجہ پالیسی میں ہم امریکہ اور مغربی ممالک کی مخالفت کو تنہائی قرار دیتے ہیں،جبکہ ایران مشکلات کاسامناکررہاہے ۔ یکجہتی سے فیصلے نہ کرپانے کا خمیازہ بعد میں ہمیں بھگتنا پڑتا ہے ۔ ٹرمپ کے بیان پر قوم میدان میں آئی ہے تاہم اسے نہیں پتہ اس کے جذبات سے کیا کھیل کھیلا جارہا ہے۔
برسلز میں امریکہ کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل جوزف ڈنفورڈ نے پاکستان کےساتھ تعلقات مزید موثر بنانے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کیا ہم ہر چیز پر اتفاق کر رہے ہیں؟ نہیں ہم نہیں کرتے، لیکن ہم پاکستان کےساتھ تعلقات کی بہتری پر توجہ دے رہے ہیں اور میں نے اس معاملے پر ابھی ہمت نہیں ہاری۔دونوں ملکوں کے کشیدہ تعلقات میں بہتری کا درست راستہ ان کی افواج کے درمیان بات چیت ہے۔ پاکستانی فوج کےساتھ عسکری سطح پر بات چیت امریکی افواج کے مرکزی کمان کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل ہی کریں گے،تعلقات بہتر بنانے کے لیے امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس بھی ضرورت پڑنے پر بات چیت کے اس عمل میں شریک ہو سکتے ہیں۔
یہ امر اہم ہے افغانستان میں تعینات امریکی اورنیٹو افواج کےلئے پاکستان ایک بہت اہم سپلائی روٹ ہے،امریکہ اسی خدشہ کے پیش نظر کہ کہیں سلالہ پوسٹ پر حملے کے واقعہ کے ردعمل کی طرح پاکستان افغانستان میں فوجی سازوسامان اور خوراک کی سپلائی بند نہ کر دے ، د ھمکیو ں سے مرعوب نہ ہونے پر اپنا پینترا بدلتے ہوئے پاکستان کےساتھ بہتر تعلقات قائم کرنے کا جھانسا دیتے ہوئے اپنے مفادات کا تحفظ اور اہداف کا حصول یقینی بنانا چاہتا ہے ، اسلئے عسکری اور بالخصوص سیاسی قیادت کو اس کے جال میں پھنسنے سے ہوشیار رہنا ہوگا ، ورنہ نقصان کا خد شہ یقین میں بدل سکتا ہے کیونکہ امریکہ کی پاکستان کےساتھ بظاہردوستی کی آڑ میں پیٹھ پیچھے چھرا گھونپنے کی تاریخ بھری پڑی ہے۔مولا علی ابن ابو طالب علیہ السلام کا قول ہے ”مومن ایک بل سے ایک دفعہ ہی ڈسہ جاتا ہے “، جبکہ ہم تو امریکہ کے ہاتھوں کئی مرتبہ ڈسے جا چکے ہیں ، تعلقات رکھنا بری بات نہیں لیکن اپنے ملکی و قومی مفادات جیسے امریکہ سمیت دنیا کے دیگر ممالک مقدم رکھتے ہیں بعین اسی فارمولا کے تحت رکھنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ عین اصولوں کے مطابق ہے اس طرح ایسا نقصان نہیں ہوتا جس طرح کا ہم اٹھا چکے ہیں اور اس پر رو رہے ہیں ۔اسی لئے مولاعلی ابن ابو طالب علیہ السلام لے قول پر مل کرنا ہوگا تب جا کر ہماری کامیابی یقینی ہو گی۔

Analysis

Syrian War Daily – 16th of January 2018

Hello and welcome to the 308th installment of the SWD.

Military events/news are listed below by the governorates: 1.716 more words

Military Updates

What do Donald Trump’s Attacks on Pakistan Mean?

Posted on January 1, 2018, the President of the USA Donald Trump’s tweet about the mistake of providing Pakistan with American financial aid (more than 33 billion dollars over the last 15 years), which was rewarded with “nothing but lies & deceit,” was a significant news event in the world politics of the recently arrived New Year. 1.012 more words

Opinion